21 جون 2017 - 09:25
یوم القدس، صہیونیت جیسے مہلک سرطان کے خلاف مسلمانوں کی صدائے احتجاج کا دن ہے: اصغریہ

یوم القدس صرف یوم فلسطین ہی نہیں بلکہ یوم امت مسلمہ ہے۔ یوم القدس، صہیونیت جیسے مہلک سرطان کے خلاف مسلمانوں کی صدائے احتجاج کا دن ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر ثابت علی ساجدی نے یوم القدس کے موقع پہ پیغام دیتے ہوئے یوم القدس کی اہمیت اور افادیت پہ کہا ہے کہ یوم القدس حق اور باطل میں ٹکراو اور ظلم کے مقابلے میں عدل کی صف آرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یوم القدس صرف یوم فلسطین ہی نہیں بلکہ یوم امت مسلمہ ہے۔ یوم القدس، صہیونیت جیسے مہلک سرطان کے خلاف مسلمانوں کی صدائے احتجاج کا دن ہے۔ ایسا سرطان جو ظالم قابض، مداخلہ گر اور عالمی استعماری طاقتوں نے امت مسلمہ میں پیدا کیا ہے۔ یوم القدس ایک عام دن نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی دن ہے۔ ایک عالمی پیغام کا حامل دن ہے۔ یہ دن ظاہر کرتا ہے کہ امت مسلمہ ہر گز ظلم کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی اگرچہ اس ظلم کو دنیا کی طاقتور ترین اور سب سے بڑی حکومتوں کی حمایت ہی حاصل کیوں نہ ہو۔ یوم القدس کو کمزور کرنے کی کس قدر کوشش کی گئی لیکن اتنے عظیم پیمانے پر عوام کی شرکت نے دنیا والوں پر غیور قوم کے ارادے کو ظاہر کر دیا اور ثابت کر دیا کہ کوئی سازش اور کسی قسم کے ہتھکنڈے ایسی بیدار قوم کے ایمانی جذبے پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ یوم القدس صحیح معنی میں ایک بین الاقوامی اسلامی دن ہے۔ ایسا دن ہے جس نے ملت میں بیداری دی ہے جس میں امت کی شرکتی تعداد اب بہت زیادہ ہو چکی ہے، ایسے حق کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہیں جسے چھپانے کیلئے عالمی استعماری طاقتیں گذشتہ 70 برس سے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ البتہ غاصب اسرائیلی حکومت کو تشکیل پائے 70 برس بیت چکے ہیں جبکہ مظلوم فلسطینیوں کے خلاف استعماری سازشوں کو ایک صدی سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ یہ طاقتیں 70 برس سے دنیا کے نقشے سے فلسطین کو محو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور بہت حد تک کامیاب بھی ہو چکی تھیں لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کے ثمرات نے ان کی تمام کوششوں کو خاک میں ملا دیا۔ یوم القدس اس سازش کے دل میں ایک تیر ہے اور اس شیطنت آمیز اقدام کو ناکام بنانے کا ذریعہ ہے جس کے تحت عالمی استعمار، صہیونزم اور ان کی حامی قوتیں مسئلہ فلسطین کو مکمل طور پر بھلا دینے کی کوشش کر رہے ہیں آج استعماری طاقتیں اور غاصب صہیونی رژیم اس حقیقت کا اعتراف کرتی نظر آتی ہیں کہ اس غیور قوم نے فلسطین کے پرچم کو بلند رکھا ہوا ہے اور مسئلہ فلسطین کو بھلا دینے کیلئے ہماری تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ یوم القدس فلسطین کے نام اور اس کی یاد کو زندہ رکھنے کا دن ہے۔یوم القدس کو اہمیت دیں اور اسے عظیم جانیں یہ ایک اہم دن ہے البتہ عالمی میڈیا اسے زیادہ کوریج نہیں دیتا تو نہ دے مگر ہمارے وہ روحانی بھائی جو اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں، مظالم برداشت کر رہے ہیں، ان کو قدس ریلیزمیں لگنے والے فلگ شگاف نعروں او بچوں، خواتیوں کے ساتھ سے ان مظلمومین کاحوصلے بڑھتے ہیں اور انہیں اپنی طاقت کا احساس ہوتا ہے۔ یوم القدس کو منانے سے اس شخص کو جو اسرائیلی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہے تنہائی کا احساس نہیں کرتا اور استحکامت سے مذاحمت کرتا ہے۔ وہ مرد اور خاتون جو بیت المقدس کے گلی کوچوں، غزہ کی پٹی اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر شہروں میں صہیونی بدمعاشوں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں انہیں اس بات کا احساس دلاتا ہے یوم القدس کہ دنیا میں ان کے حامی ہیں تاکہ وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کر سکیں، اگر مسلم حکومتیں اور عوام مسئلہ فلسطین اور یوم القدس سے متعلق اپنے فرائض درست طور پر انجام دیں تو مظلوم فلسطینی عوام اس حقیقت کو درک کر لیں گے کہ دنیا میں ایسے افراد بھی ہیں جو ان پر ہونے والے ظلم و ستم سے بیزار ہیں اور ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ یہ احساس ثابت ہونا چاہئے۔ اسرائیل پر دباو بڑھانا چاہئے، یوم القدس مسلمان اقوام کی بڑی آزمائش کا دن ہے۔ یوم القدس ایسا دن ہے جب مسلمان اقوام اپنے حکمرانوں سے ہٹ کر براہ راست طور پر اپنے موقف کا اظہار کرتی ہیں۔ اس سال بھی یوم القدس انتہائی اہمیت کا حامل ہے یوم القدس کو منانے سے دباو بڑھے گا کہ مسلمان حکمرانوں کو امریکہ کو راضی کرنے یا کسی اور بہانے سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے تعلقات برقرار کرنے کی کوشش ناکام ہوسکے، یہ دن تمام اقوام پہ واضح کرتا ہے کہ اسرائیل تمام خطے اور تمام حکومتوں اور اقوام کیلئے خطرہ ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک یوم القدس کو سرکاری سطح پہ منانے کا اعلان کرے تاکہ دنیا سے اس شیطانی قوت کا نام ختم ہوجائ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲